Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Test link

Search Suggest

Middle Post AD 03

Posts

کراچی: لیاری میں دلہا وحشی بن گیا، دلہن کا جسم دانتوں سے

کراچی: لیاری میں دلہا وحشی بن گیا، دلہن کا جسم دانتوں سے Urdu stories, funny stories,moral stories,new Urdu stories

 کراچی: لیاری میں دلہا وحشی بن گیا، دلہن کا جسم دانتوں سے




کہانی: “لیاری کی دلہن”

پہلا باب: خوشیوں کی شام


کراچی کی گرمیوں کی ایک شام تھی۔ لیاری کی تنگ گلیوں میں بجلی کے قمقمے جھلمل کر رہے تھے۔ چھتوں پر بچے آتشبازی کر رہے تھے اور محلے کے بڑے اپنی گلی کے نکڑ پر کرسیوں پر بیٹھے ہنسی مذاق کر رہے تھے۔

آج گلی میں سب کی نظریں ایک ہی گھر پر تھیں—حاجی یوسف کا مکان، جہاں ان کے بیٹے ارسلان کی شادی ہو رہی تھی۔ ارسلان دبلا پتلا مگر چست نوجوان، محلے میں سب سے ہنس مکھ مانا جاتا تھا۔ اس نے اپنی زندگی کی ساتھی مریم کا انتخاب خود کیا تھا۔ مریم قریبی علاقے کی ایک نہایت شریف اور پڑھائی میں اچھی لڑکی تھی۔


محلے میں گانے بج رہے تھے، ڈھول کی تھاپ پر لڑکے ناچ رہے تھے، اور عورتیں گلی میں بیٹھی مہندی گا رہی تھیں۔ مریم سرخ جوڑے میں، اپنے چہرے پر شرم کی لالی لیے، کمرے میں بیٹھی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ آج سے اس کی نئی زندگی شروع ہونے والی ہے۔


دوسرا باب: پہلی رات کا انتظار


شادی کی تقریب ہنسی خوشی ختم ہوئی۔ مہمان رخصت ہو گئے، اور دلہا دلہن کو کمرے میں اکیلا چھوڑ دیا گیا۔ مریم نے آہستہ سے نقاب اتارا اور ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ ارسلان کی طرف دیکھا۔ مگر ارسلان کی آنکھوں میں وہ نرمی نہیں تھی جس کی مریم کو امید تھی۔ اس کے چہرے پر ایک عجیب سا سخت تاثر تھا۔


“تمہیں پتا ہے مریم، میں تمہارے بارے میں سب کچھ جاننا چاہتا ہوں،” ارسلان نے ایک عجیب لہجے میں کہا۔ مریم نے ہنس کر کہا: “ہم ایک دوسرے کو جان جائیں گے، وقت کے ساتھ۔” مگر ارسلان خاموش نہ ہوا۔ اس کی آواز دھیمی مگر تیز تھی: “میں وقت ضائع نہیں کرتا۔”


تیسرا باب: خاموشی کا طوفان


رات گہری ہو چکی تھی۔ باہر گلی میں سب سو چکے تھے، مگر ارسلان کے کمرے میں کشیدگی بڑھتی جا رہی تھی۔ مریم کو احساس ہوا کہ ارسلان کا رویہ عام شوہروں جیسا نہیں، بلکہ جیسے وہ کسی دباؤ یا غصے میں ہے۔


مریم نے بات بدلنے کی کوشش کی مگر ارسلان کے سوال اور تلخ ہوتے گئے۔ کچھ ہی دیر میں ارسلان کا لہجہ سخت سے سخت تر ہو گیا۔ وہ مریم کی ہر بات کو شک کی نظر سے دیکھ رہا تھا۔


چوتھا باب: شور کی پہلی آہٹ


رات کے پچھلے پہر حاجی یوسف کی بیوی کو کمرے سے ہلکی سی آواز آئی۔ وہ پہلے تو سمجھی شاید بات چیت ہو رہی ہے، مگر آوازوں میں ایک عجیب سا کھچاؤ تھا۔ اس نے شوہر کو اٹھایا اور کہا: “جا کر دیکھو، ارسلان اور مریم کی آوازیں کیوں بدل رہی ہیں۔”


حاجی یوسف نے دروازے کے قریب جا کر کان لگایا۔ اندر سے مریم کی دبنگ مگر کانپتی ہوئی آواز آئی: “بس کرو ارسلان! یہ کیا طریقہ ہے؟”

مگر یوسف نے سمجھا شاید میاں بیوی کی معمولی تلخی ہے، اور خاموشی سے واپس چلا گیا۔


پانچواں باب: خطرناک حقیقت


اگلی صبح مریم کے چہرے پر زردی اور آنکھوں میں خوف نمایاں تھا۔ محلے کی عورتوں نے نوٹ کیا کہ وہ بہت چپ ہو گئی ہے۔ شادی کے دوسرے دن وہ اپنی ماں سے بھی زیادہ بات نہ کر سکی۔


مریم کے دل میں ایک سوال کچوکے لگا رہا تھا: کیا یہ وہ زندگی تھی جس کا خواب اس نے دیکھا تھا؟


چھٹا باب: راز کا انکشاف


تین دن بعد مریم نے اپنی ماں کو فون کیا۔ اس کی آواز کانپ رہی تھی: “امی، مجھے یہاں محفوظ نہیں لگتا۔ ارسلان کا رویہ عجیب ہے۔ وہ مجھ سے ایسے سوال کرتا ہے جیسے میں کوئی مجرم ہوں۔”


مریم کی ماں نے پہلے تو سمجھانے کی کوشش کی کہ شاید نئی زندگی کے دباؤ کی وجہ سے ایسا ہے، مگر مریم کے لہجے میں خوف کی شدت نے ماں کو پریشان کر دیا۔


ساتواں باب: محلے میں چہ مگوئیاں


چوتھے دن خبر پھیل گئی کہ مریم بیمار ہو گئی ہے۔ مگر کچھ عورتوں نے کہا کہ اس کے چہرے اور بازو پر نشان دیکھے گئے ہیں۔ کسی نے کہا وہ گر گئی ہوگی، کسی نے کہا شاید زیادہ کمزوری ہے۔


محلے کے ایک بزرگ نے حاجی یوسف کو کہا: “بیٹا، بیوی سے محبت عزت سے کی جاتی ہے، ڈر اور شک سے نہیں۔” مگر ارسلان نے ان باتوں کو مذاق میں اڑا دیا۔


آٹھواں باب: حقیقت کا سامنا


ایک رات مریم نے فیصلہ کیا کہ اب وہ مزید خاموش نہیں رہے گی۔ اس نے ارسلان سے کہا: “اگر تم مجھ سے محبت نہیں کرتے تو صاف کہہ دو۔ یہ سب کھیل ختم کرو۔”

ارسلان کے چہرے پر ایک لمحے کے لیے حیرت آئی، مگر پھر وہ خاموش ہو گیا۔ اس خاموشی میں ایک طویل کہانی چھپی تھی۔


نواں باب: فرار کی کوشش


اگلی صبح مریم نے اپنی ماں کو پیغام بھیجا کہ وہ اسے لینے آ جائے۔ مگر اس سے پہلے ہی ارسلان کو یہ بات پتہ چل گئی۔ ارسلان نے اسے روکنے کی کوشش کی، مگر مریم نے ہمت سے کہا: “میں کسی ایسے شخص کے ساتھ نہیں رہ سکتی جو میری عزت نہ کرے۔”


دسواں باب: اختتام اور سبق


آخرکار مریم اپنے والدین کے گھر واپس چلی گئی۔ محلے میں کئی دن تک چہ مگوئیاں چلتی رہیں۔ کچھ لوگ مریم کو قصوروار ٹھہراتے، کچھ ارسلان کو۔ مگر حقیقت یہ تھی کہ عزت اور بھروسہ کسی بھی رشتے کی بنیاد ہوتے ہیں، اور جب وہ ٹوٹ جائے تو سب کچھ بکھر جاتا ہے۔


مریم نے اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ جانتی تھی کہ یہ سفر آسان نہیں ہوگا، مگر اس نے عزم کیا کہ اب اپنی خودی اور عزت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

Regards....

Admin 💯👉👉

Post a Comment