Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Test link

Search Suggest

Middle Post AD 03

Posts

دلہن سہاگ رات کو اپنے خاوند کے ساتھ بیڈ پر بیٹھی ہوئی خوشی خوشی باتیں کر رہی تھی پھر لائٹس بند اور۔۔۔See more

 دلہن سہاگ رات کو اپنے خاوند کے ساتھ بیڈ پر بیٹھی ہوئی خوشی خوشی باتیں کر رہی تھی پھر لائٹس بند اور۔۔۔





دلہن سہاگ رات کو اپنے خاوند کے ساتھ بیڈ پر بیٹھی ہوئی خوشی خوشی باتیں کر رہی تھی۔ کمرے میں ہلکی ہلکی خوشبو اور باہر سے ہلکی بارش کی آواز آ رہی تھی۔ دونوں کے چہروں پر مسکراہٹ تھی، آنکھوں میں شرم اور خوشی کی چمک۔ دلہن ہنس ہنس کر اپنے شوہر کی باتیں سن رہی تھی، کبھی نظریں جھکا لیتی اور کبھی شوخ انداز میں دیکھ لیتی۔

پھر آہستہ آہستہ خاموشی چھا گئی۔ شوہر نے نرمی سے اٹھ کر کمرے کی لائٹس بند کر دیں۔ کمرہ مکمل اندھیرے میں ڈوب گیا، بس باہر بجلی کی چمک کمرے میں لمحہ بھر کے لیے روشنی ڈال دیتی۔ دلہن کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔



لیکن جیسے ہی شوہر واپس بیڈ پر بیٹھا، اچانک کمرے کے کونے سے ایک تیز آواز آئی… جیسے کسی نے فرش پر کچھ گرایا ہو۔ دلہن سہم گئی اور شوہر فوراً اٹھا۔ وہ سمجھا شاید کسی بلی یا چوہے کی حرکت ہے، لیکن جب لائٹ جلائی تو دونوں کی سانسیں تھم گئیں۔ کمرے کے ایک کونے میں ایک پرانا لکڑی کا بکس کھلا ہوا تھا، حالانکہ دن میں وہ بکس بند تھا اور اس کی چابی بھی غائب تھی۔

شوہر نے قریب جا کر دیکھا تو بکس کے اندر سے ایک پرانا خط اور ایک عورت کی تصویر نکلی… اور وہ تصویر بالکل دلہن جیسی تھی۔ دلہن کا رنگ فق ہو گیا، ہاتھ کانپنے لگے۔ اس کے لب کپکپا رہے تھے، جیسے وہ کچھ کہنا چاہتی ہو لیکن الفاظ نہیں نکل پا رہے تھے۔





شوہر حیران ہو کر بولا، “یہ تمہاری تصویر یہاں کیسے؟ یہ تو کم از کم بیس سال پرانی لگ رہی ہے…”

کمرے میں ایک عجیب سی خاموشی چھا گئی، بارش کی آواز بھی جیسے رک گئی ہو۔ دلہن نے آہستہ سے کہا، “یہ تصویر… میری نہیں… میری ماں کی ہے۔” اور یہ کہتے ہی اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے، کیونکہ اس خط میں ایک ایسا راز لکھا تھا جس نے ان دونوں کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل دینی تھی…

اگر آپ چاہیں تو میں اس کہانی کا اگلا حصہ اور راز کا انکشاف بھی لکھ سکتی ہوں، تاکہ یہ مکمل ہو کر ایک تھرلر جیسی لگے۔

Post a Comment